1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

کیا سیاسی رخ، جی ایچ کیو کی خواہشات کے خلاف ہے؟

عبدالستار، اسلام آباد
2 اپریل 2024

قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ عمر ایوب کی بطور قائد حزب اختلاف تقرری، عمران خان کی سزا کی معطلی اور سپریم کورٹ کے از خود نوٹس سے تاثر ابھر رہا ہے کہ سیاسی ہوا ملک کے طاقتور حلقوں کی خواہشات کے مطابق نہیں ہے۔

https://p.dw.com/p/4eMBr
عمر ایوب خان
تصویر: Donat Sorokin/TASS/dpa/picture alliance

اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کی طرف سے آئی ایس آئی کے خلاف خط، ملک بھر کی بار کونسلز کے مطالبات اور جسٹس ریٹائرڈ تصدق حسین جیلانی کی طرف سے  کمیشن کی صدارت سے معذرت بھی اس بدلتی ہوئی ہوا کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزائیں معطل، لیکن رہائی نہیں ملے گی

’چیف جسٹس آف پاکستان نے سخت موقف نہیں اپنایا، تو عدلیہ کی آزادی ایک خواب بن جائے گی‘

’معاملات خواہشات کے عین مطابق نہیں‘

بدلتی ہوئی اس سیاسی ہوا کے اشارے کئی حلقوں کو نظر آرہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں کہ ہوا ہمیشہ جی ایچ کیو کی موافقت میں ہی چلے۔

رکن قومی اسمبلی پھلین بلوچ کا کہنا ہے کہ ایسے اشارے مل رہے ہیں جس سے یہ معلوم ہوتا ہے سیاسی ہوا کا رخ اب جی ایچ کیو کی خواہش کے مطابق نہیں ہے: ''جس طرح جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کمیشن کی صدارت کرنے سے معذرت کی ہے اور جس انداز میں بار کونسلز نے خط میں لگائے جانے والے الزامات کی تحقیقات کے حوالے سے دباؤ ڈالا ہے، اس سے یہ لگ رہا ہے معاملات طاقتور حلقوں کی خواہش کے مطابق نہیں چل رہے۔‘‘

عمران خان کی تصاویر والے پوسٹرز
اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس میں دی گئی سزا معطل کر کے انہیں اور ان کی اہلیہ کو رہا کرنے کا حکم سنایا۔تصویر: Rizwan Tabassum/AFP/Getty Images

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شعیب شاہین کا بھی ایسا ہی خیال ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''عمران خان کی سزا کی معطلی اور ہائی کورٹ کی ججوں کی طرف سے لکھے جانے والے خط کے بعد عوامی رد عمل آیا ہے۔ اس سے بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ چیزیں ملک چلانے والوں کے ہاتھوں میں اس طرح نہیں ہیں جس طرح مقتدر حلقے چاہتے تھے۔‘‘

’گرفت توڑنا آسان نہیں‘

تاہم کچھ دوسرے تجزیہ نگاروں کے خیال میں پاکستان کی سیاسی معاملات پر اسٹیبلشمنٹ کی گرفت اتنی مضبوط ہے کہ اس کو توڑنا اتنا آسان نہیں ہو گا۔ صحافی فوزیہ کلثوم رانا کا کہنا ہے کہ ملک کی ڈور ابھی بھی مقتدر حلقوں کے پاس ہی ہے: ''عمران خان کو جو ریلیف ملا ہے، وہ بڑا نہیں ہے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کے رہنماؤں پر دھڑا دھڑ مقدمات بنائے جا رہے ہیں اور ان کو رہا نہیں کیا جا رہا ہے۔‘‘

فوزیہ کلثوم رانا کے مطابق جی ایچ کیو جب اور جس کو چاہتا ہے، ریلیف دلوادیتا ہے: ''وہ جب چاہیں نواز شریف کو ریلیف دلوا دیتے ہیں، اور جب چاہیں مقدمات  کسی اور کے خلاف بنوا دیتے ہیں۔ آج بھی انہی کے ہاتھ میں اصل طاقت ہے۔‘‘

’معاملہ کاکڑ کی چیئرمین شپ کا ہے‘

تجزیہ نگار ڈاکٹر توصیف احمد خان کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ نظر آرہا ہے کہ پیپلز پارٹی انوار الحق کاکڑ کو چیئرمین سینیٹ  بنانے پر راضی نہیں ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''اسی لیے اسٹیبلشمنٹ پیپلز پارٹی کو بلیک میل کرنے کے لیے یہ تاثر دے رہی ہے کہ اگر کاکڑ کی حمایت نہیں کی گئی، تو خان کو رعایت مل سکتی ہے۔‘‘

پاکستانی سپریم کورٹ کی عمارت
پاکستان سپریم کورٹ نے ججز کی طرف سے لکھے گئے خط پر سو موٹو ایکشن لیا ہے۔تصویر: Anjum Naveed/AP/picture alliance

توصیف احمد خان کے مطابق اس طرح جی ایچ کیو سیاست دانوں کو آپس میں ہی لڑا رہا ہے اور اس سے نقصان سیاست دانوں کو ہو رہا ہے۔

عمر ایوب خان قائد حزب اختلاف

دوسری طرفاسمبلی  کے اسپیکر ایاز صادق نے پی ٹی آئی کے رہنما عمر ایوب خان کی بحیثیت قائد حزب اختلاف تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ اس تقرر اور پاکستان میں اس عہدے کی حیثیت پر بھی تبصرے ہو رہے ہیں۔

شعیب شاہین نے اس حوالے سے تصدیق کہ عمر ایوب خان کو قائد حزب اختلاف بنا دیا گیا ہے۔

فوزیہ کلثوم رانا کے مطابق عمر ایوب عمران خان اور جی ایچ کیو دونوں کے لیے قابل قبول ہیں: ''انہیں اس لیے یہ عہدہ دیا گیا ہے کہ اگر پارٹی کو جی ایچ کیو سے مذاکرات کرنا ہوں، تو وہ اس میں بہتر ثابت ہو سکتے ہیں۔‘‘